Uncategorized

ہم جنگ سے نہیں ڈرتے، مذاکرات سے نہیں بھاگیں گے: ایرانی صدر

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکیاسیویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور اس کے عوام خود دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں، اور امریکہ کی جانب سے ایران کو دہشت گرد ریاست قرار دینا حقیقت کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ خود خطے میں عدم استحکام اور تشدد کو ہوا دے رہا ہے، جبکہ ایران نے ہمیشہ اپنے دفاع کے سوا کوئی جارحانہ اقدام نہیں کیا۔

صدر پزشکیان نے اپنی تقریر کا آغاز ایران میں ہونے والے حالیہ حملوں اور ان کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتوں کا ذکر کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے اسکول بس پر ہونے والے ایک حملے میں جاں بحق ہونے والے معصوم بچوں کی تصاویر بھی اجلاس میں پیش کیں، جس سے حاضرین میں گہرا تاثر پیدا ہوا۔ ایرانی صدر نے واضح کیا کہ ان حملوں کا مقصد ایرانی قوم کو دہشت زدہ کرنا تھا، تاہم ایرانی عوام نے حوصلے اور یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دیا۔

انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران جنگ سے خوفزدہ نہیں ہے اور اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا، تاہم ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ ایران امن کے قیام کے لیے مذاکرات کے دروازے سے کبھی نہیں بھاگے گا۔ صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران ہمیشہ سفارتی حل کو ترجیح دیتا رہا ہے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے بامعنی مذاکرات پر یقین رکھتا ہے، بشرطیکہ یہ مذاکرات برابری کی بنیاد پر اور دھمکیوں سے ماورا ہوں۔

ایرانی صدر نے جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے پرامن جوہری پروگرام پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا، کیونکہ یہ پروگرام مکمل طور پر توانائی کی ضروریات اور طبی مقاصد کے لیے ہے، نہ کہ ہتھیاروں کی تیاری کے لیے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ ایران کے جوہری حق کو تسلیم کیا جائے اور بلاجواز پابندیوں کے ذریعے ایرانی عوام کو دباؤ میں لانے کی کوششیں ترک کی جائیں۔

خطاب کے دوران صدر پزشکیان نے ایران اور امریکہ کے مابین جنگ کے خاتمے سمیت متعدد معاملات پر پائے جانے والے شدید اختلافات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے جنگ کے تناظر میں سخت زبان استعمال کی، مگر ساتھ ہی مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کا اشارہ بھی دیا، جسے سفارتی حلقوں نے ایران کی جانب سے لچک کا مظہر قرار دیا۔ مبصرین کے مطابق یہ بیان ایک طرف عالمی برادری کو ایران کے مؤقف سے آگاہ کرنے، اور دوسری طرف مذاکرات کی راہ ہموار رکھنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

صدر پزشکیان نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ خطے میں جاری کشیدگی کے پائیدار حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور یکطرفہ اقدامات کے بجائے مکالمے اور سفارت کاری کو ترجیح دیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران خطے کے تمام ممالک کے ساتھ پرامن اور برابری پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے، اور کسی بھی ملک کی خودمختاری یا سلامتی کو نقصان پہنچانا اس کی پالیسی کا حصہ نہیں۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اس اجلاس میں دنیا بھر کے رہنماؤں کی موجودگی میں دیا گیا یہ خطاب عالمی سطح پر ایران کے مؤقف کو دوبارہ اجاگر کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایران کی جانب سے سخت مؤقف کے ساتھ ساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرنا خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک نازک مگر اہم کوشش ہے، جس کا انحصار اب دوسرے فریقین، خصوصاً امریکہ کے ردعمل پر ہوگا۔

جواب دیں

Back to top button