پاکستان

پاکستان توڑنے کی سازش کامیاب نہیں ہوگی: وزیراعلیٰ بلوچستان

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کو توڑنے کی کوئی سازش کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کسی قسم کی انسرجنسی نہیں ہے، بلکہ چند عناصر شناخت کی بنیاد پر علیحدگی کی سوچ کو فروغ دے رہے ہیں، جو صوبے اور اس کے عوام کے مفاد میں ہرگز نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں اکیسویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ایسے عناصر پاکستان کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں، تاہم ملک دشمن قوتوں کا یہ ایجنڈا کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا کیونکہ پاکستان کے عوام، بشمول بلوچستان کے باسی، ملکی سالمیت اور یکجہتی پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ نوجوانوں کو ایک لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، جس سے نہ بلوچستان کے نوجوانوں کو کچھ حاصل ہوگا اور نہ ہی صوبے کو کوئی فائدہ پہنچے گا۔ اس کے برعکس ایسی سرگرمیاں صوبے کی ترقی اور امن کے عمل کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت اور سیکیورٹی ادارے ایسے عناصر کے خلاف مسلسل کارروائی کر رہے ہیں اور اس ضمن میں گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی رٹ کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا اور کسی کو بھی امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کو فعال کیا جا رہا ہے، تاکہ شفافیت اور بہتر طرزِ حکمرانی کا سلسلہ جاری رہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں اچھی طرزِ حکمرانی کی بنیاد رکھی جا چکی ہے اور اس کے تسلسل کو برقرار رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ترقیاتی عمل میں میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنا کر ہی عوام کا حکومتی اداروں پر اعتماد مضبوط ہو سکتا ہے، اور یہی حکمتِ عملی صوبے کو حقیقی معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن کرے گی۔

اس موقع پر رکنِ ایوانِ بالا سینیٹر ڈینش کمار، معاون خصوصی برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند اور پرنسل سیکرٹری عمران زرکون سمیت دیگر اہم حکام بھی موجود تھے۔ ورکشاپ کے شرکاء نے وزیراعلیٰ کے خطاب کو سراہا اور کہا کہ اس طرح کے فورمز بلوچستان کے مسائل کے حل اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبے میں سیکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ بلوچ نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور ترقیاتی مواقع کی فراہمی ہی علیحدگی پسند رجحانات کے تدارک کا مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے، اور صوبائی حکومت کو اس سمت میں مزید عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکے اور بلوچستان میں دیرپا امن قائم ہو سکے۔

واضح رہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ صوبے کے مسائل کا حل طاقت کے بجائے مکالمے، ترقی اور سیاسی عمل میں شمولیت سے ممکن ہے۔ انہوں نے اس موقع پر نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ منفی پروپیگنڈے سے بچیں اور ملکی اداروں پر اعتماد کریں، کیونکہ صرف اتحاد اور یکجہتی کے ذریعے ہی بلوچستان کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے.

جواب دیں

Back to top button