وزیراعظم کی اپوزیشن رہنما اچکزئی سے ملاقات، مذاکرات کی دعوت
اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے درمیان قومی اسمبلی کے ایوان میں ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں باہمی مشاورت اور سیاسی تعلقات کو بہتر بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ قومی اہمیت کے معاملات پر تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیے۔
ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ممبران کا تقرر گزشتہ ایک سال سے التوا کا شکار ہے، جو کہ ایک اہم آئینی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس قسم کے حساس اور آئینی معاملات پر کسی کو سیاست نہیں کرنی چاہیے، بلکہ تمام فریقین کو مل کر جلد از جلد اس اہم آئینی عہدے کو پر کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔
ذرائع کے مطابق ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے ملکی سیاسی صورتحال، پارلیمانی امور اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ہر فورم پر اپوزیشن کے ساتھ بامقصد مذاکرات کے لیے تیار ہے اور تمام سیاسی اختلافات کو جمہوری انداز میں حل کیا جانا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے بھی اس ملاقات کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملکی مسائل کے حل کے لیے سیاسی جماعتوں کے مابین بات چیت کا تسلسل ضروری ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کے معاملے پر بھی اپنی تجاویز پیش کیں اور کہا کہ آئینی اداروں کی خودمختاری اور شفافیت کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن ممبران کی تقرری میں تاخیر سے آئندہ انتخابی عمل پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اس لیے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق آئینی اداروں میں خالی آسامیوں کا طویل عرصے تک برقرار رہنا جمہوری نظام کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔
پارلیمانی ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے دی گئی مذاکرات کی دعوت کو اپوزیشن کی جانب سے مثبت انداز میں لیا گیا ہے، اور توقع ہے کہ آئندہ دنوں میں حکومتی اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان مزید نشستیں ہوں گی تاکہ الیکشن کمیشن کی تشکیل سمیت دیگر اہم آئینی و قانونی معاملات پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی ماحول میں حکومت اور اپوزیشن کے مابین اس نوعیت کے رابطے ملکی جمہوری استحکام کے لیے نہایت اہم ہیں۔ ان کے مطابق اگر فریقین نے یہی روش برقرار رکھی تو آئینی اداروں کی تشکیل نو سمیت دیگر حساس امور پر بھی جلد پیش رفت متوقع ہے، جس سے ملک میں سیاسی و جمہوری نظام کے مزید مستحکم ہونے کی امید پیدا ہوگی۔
واضح رہے کہ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب ملک میں سیاسی جماعتوں کے درمیان مختلف قومی معاملات پر رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ مبصرین کے نزدیک وزیراعظم کی جانب سے اپوزیشن کو بار بار مذاکرات کی دعوت دینا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت سیاسی استحکام اور پارلیمانی تعاون کو اولین ترجیح دے رہی ہے، جبکہ عوام بھی توقع رکھتے ہیں کہ یہ کوششیں جلد ٹھوس نتائج کی صورت میں سامنے آئیں گی۔

