سینیٹ سے بھی خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نفاذ کی قرارداد منظور
قومی اسمبلی کے بعد ایوانِ بالا یعنی سینیٹ نے بھی خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کر لی ہے۔ بدھ کے روز چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں یہ قرارداد پیش کی گئی، جسے ایوان میں موجود اکثریتی اراکین نے بھرپور حمایت کے ساتھ منظور کر لیا۔
قرارداد کی منظوری کے موقع پر ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، کیونکہ اپوزیشن اراکین نے اس اقدام کی سخت مخالفت کی۔ اپوزیشن کی جانب سے احتجاجاً نعرے بازی کی گئی، جس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کے خلاف بھی نعرے لگائے گئے۔ اراکین نے ڈیسک بجا کر اور ایوان سے واک آؤٹ کرکے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے قرارداد کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر یہ اقدام ناگزیر ہو چکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں حالیہ عرصے کے دوران دہشت گردی کے واقعات اور سیاسی عدم استحکام نے انتظامی بحران کو جنم دیا ہے، جس کے باعث وفاقی سطح پر مداخلت ناگزیر ہو گئی تھی۔
اپوزیشن رہنماؤں کا مؤقف تھا کہ یہ اقدام صوبائی خودمختاری اور آئینی وفاقی ڈھانچے کے منافی ہے، اور اسے سیاسی انتقام کا ایک حربہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات کو اس طرح محدود کرنا جمہوری اصولوں کے خلاف ہے، اور اس فیصلے کو ہر فورم پر چیلنج کیا جائے گا۔ اپوزیشن ارکان نے خبردار کیا کہ اس اقدام کے سنگین سیاسی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب حکومتی اراکین کا کہنا تھا کہ یہ قرارداد آئین اور قانون کے مطابق منظور کی گئی ہے، اور اس کا مقصد صوبے میں امن و امان کی بحالی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے کسی بھی صورت میں امن و امان کی خراب صورتحال کو نظرانداز نہیں کر سکتے، اور اس قسم کے اقدامات عوامی مفاد میں کیے جاتے ہیں۔
قومی اسمبلی سے پہلے ہی یہ قرارداد منظور ہو چکی تھی، اور سینیٹ کی منظوری کے بعد اب اس قرارداد پر عملدرآمد کے لیے مزید آئینی و قانونی مراحل طے کیے جائیں گے۔ سیاسی و آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات ماضی میں بھی متنازع رہے ہیں اور عدالتی چیلنج کا سامنا کر چکے ہیں، لہٰذا توقع ہے کہ یہ معاملہ بھی عدالتوں میں زیرِ بحث آ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے وفاق اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کے مابین تناؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے، اور آئندہ دنوں میں سیاسی درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ ان کے مطابق تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئینی دائرہ کار میں رہ کر معاملات حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، تاکہ ملکی سیاسی استحکام متاثر نہ ہو۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں وفاق اور صوبائی حکومت کے مابین کشیدگی گزشتہ کئی مہینوں سے جاری ہے، اور اس دوران متعدد مواقع پر دونوں جانب سے سخت بیانات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ قرارداد اس کشیدگی کی ایک نئی کڑی ہے، جس کے دور رس اثرات ملکی سیاست پر مرتب ہو سکتے ہیں۔




