تعلیم

ژوب میں نئے یونیورسٹی کیمپس کا اعلان: گورنر بلوچستان

گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل دنیا کے باعث روایتی مضامین کی مارکیٹ ویلیو تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے، اس لیے طلبہ و طالبات کو جدید سائنسی علوم اور عالمی منڈی کے تقاضوں سے ہم آہنگ مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز (بائٹمز) کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

گورنر بلوچستان نے کہا کہ صوبے میں نوجوانوں کو قومی و عالمی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تیار کرنے کے لیے یونیورسٹی میں جدید اور مارکیٹ سے ہم آہنگ مضامین متعارف کرائے جا رہے ہیں، جن میں جدید سائنسی علوم، ٹیکنالوجیکل مہارتیں اور خصوصی تحقیقی شعبہ جات شامل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان اقدامات کا بنیادی مقصد بلوچستان کے مقامی نوجوانوں کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی بھرپور طریقے سے بروئے کار لا سکیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر مندوخیل نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ضلع ژوب میں یونیورسٹی کے نئے کیمپس کا قیام عمل میں لایا جائے گا، جس سے علاقے کے ہزاروں طلبہ و طالبات کے لیے اعلیٰ تعلیم کے نئے اور سنہری مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دور دراز اور پسماندہ اضلاع میں معیاری تعلیمی اداروں کا قیام حکومتِ بلوچستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، تاکہ صوبے کے ہر خطے کے نوجوانوں کو یکساں تعلیمی مواقع میسر آ سکیں۔

گورنر نے کہا کہ عالمی سطح پر تیزی سے رونما ہونے والی تکنیکی تبدیلیوں کے پیشِ نظر روایتی تعلیمی نظام میں اصلاحات وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر طلبہ کو بروقت جدید علوم اور ہنر سے آراستہ نہ کیا گیا تو وہ عالمی مارکیٹ میں مقابلے کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے، جس سے نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی سطح پر بھی نقصان کا خدشہ ہے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں پر زور دیا کہ وہ نصاب کو مارکیٹ کی حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ رکھیں اور طلبہ کو عملی تربیت کے مواقع بھی فراہم کریں۔

اس موقع پر یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے گورنر بلوچستان کو یادگاری شیلڈ بھی پیش کی گئی۔ تقریب میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ و طالبات اور مختلف شعبہ جات کے سربراہان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے گورنر کے اس اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ژوب جیسے پسماندہ اور دور افتادہ ضلع میں یونیورسٹی کیمپس کا قیام علاقے میں تعلیمی انقلاب کی بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔

تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان جیسے صوبے میں، جہاں اعلیٰ تعلیم تک رسائی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے، دور دراز اضلاع میں یونیورسٹی کیمپسز کا قیام نہایت خوش آئند اقدام ہے۔ ان کے مطابق اگر ان کیمپسز میں معیاری تعلیم، جدید نصاب اور تربیت یافتہ اساتذہ کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تو یہ اقدام علاقے کے نوجوانوں کے مستقبل کو سنوارنے کے ساتھ ساتھ صوبے میں مجموعی تعلیمی ترقی میں بھی نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button