مکہ معاہدہ اسلامی دنیا کیلئے پیغام ہے، مثبت اثرات ظاہر: اردوان
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ مکہ معاہدہ اسلامی دنیا کے لیے ایک اہم پیغام ہے اور اس کے مثبت اثرات اب سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے مابین باہمی تعاون اور دفاعی نوعیت کے اس معاہدے پر عالمی سطح پر گہری دلچسپی پائی جا رہی ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق انقرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ترک صدر نے بتایا کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مل کر یہ قدم اٹھایا ہے اور تینوں ممالک اس میں کامیاب ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاہدے کو معمولی نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ ترکیہ کے عوام کی توقعات بہت زیادہ ہیں کہ ترکیہ اسلامی دنیا کو درپیش مشکلات پر جلد از جلد قابو پانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ صدر اردوان کے مطابق ترکیہ کا واضح موقف یہ ہے کہ اسلامی دنیا کو درپیش سنجیدہ نوعیت کے مسائل پر جلد از جلد قابو پایا جانا چاہیے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے ترکیہ اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔
صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ترک صدر نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر بھی بات کی اور کہا کہ خطے میں جو کچھ ہو رہا ہے، ترکیہ اسے بغور دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے تمام فریقین سے سنجیدہ کوششوں پر زور دیا۔ اس موقع پر جب ترک صدر سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کے حوالے سے سوال پوچھا گیا کہ آیا یہ نظام دنیا کے لیے منصفانہ ہے، تو انہوں نے ایک بار پھر اپنے دیرینہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک زیادہ منصفانہ عالمی نظام کے حق میں ہیں جس میں طاقت محض چند ممالک کے ہاتھ میں مرتکز نہ ہو۔ صدر اردوان کا یہ بیان ان کے معروف مؤقف سے مطابقت رکھتا ہے کہ دنیا محض پانچ ممالک سے کہیں بڑی ہے، اور عالمی فیصلہ سازی کے عمل میں وسیع تر نمائندگی کی ضرورت ہے۔
ترک صدر نے مکہ معاہدے کے تناظر میں سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ تینوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان یہ اشتراکِ عمل خطے اور عالمِ اسلام کے لیے ایک نئی سمت کا تعین کرے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس معاہدے کے تحت باہمی تعاون کا دائرہ کار مستقبل میں مزید وسیع ہوگا اور دیگر اسلامی ممالک بھی اس پیش رفت سے مستفید ہوں گے۔
اردوان نے مزید کہا کہ ترکیہ کے عوام کی خواہش اور توقع ہے کہ ان کا ملک عالمِ اسلام کو درپیش چیلنجز، خواہ وہ سیاسی نوعیت کے ہوں یا معاشی و سلامتی سے متعلق، ان کے حل میں پیش پیش رہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی ممالک کے مابین اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہے، اور مکہ معاہدہ اسی سمت میں ایک ٹھوس اور عملی قدم ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے مابین اس نوعیت کے معاہدے کی اہمیت خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں مزید بڑھ جاتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کا شکار ہے۔ ماہرین کے مطابق تینوں ممالک کا مشترکہ مؤقف عالمِ اسلام میں اتحاد کے فروغ اور بین الاقوامی سطح پر مسلم ممالک کی اجتماعی آواز کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ترک صدر کے اس بیان کو سفارتی حلقوں میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے اور توقع ہے کہ آئندہ دنوں میں تینوں ممالک کی سطح پر مزید رابطے اور ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
