پاکستان

پیٹرول 136 اور ڈیزل 122 روپے فی لیٹر ٹیکسوں کے باعث مہنگا

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی اصل قیمت اور صارفین سے وصول کی جانے والی قیمت کے درمیان فرق میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، کیونکہ حکومت کی جانب سے عائد کردہ ٹیکسوں، لیوی اور مختلف مارجنز کا بوجھ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ایک لیٹر پیٹرول کی اصل پیداواری و درآمدی قیمت کے مقابلے میں صارف سے ایک سو چھتیس روپے چونتیس پیسے زائد وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر یہ فرق ایک سو بائیس روپے اڑسٹھ پیسے فی لیٹر تک جا پہنچا ہے۔

ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد پیٹرولیم لیوی، جنرل سیلز ٹیکس کے مساوی ڈیوٹیز، کسٹمز ڈیوٹی اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں و ڈیلرز کے مارجنز مل کر اصل قیمت کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت پیٹرولیم لیوی کو آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ سمجھتی ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ بھی عام صارف تک مکمل طور پر منتقل نہیں ہو پاتا۔

عوامی حلقوں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا براہِ راست اثر نقل و حمل کے کرایوں، اشیائے خورونوش کی قیمتوں اور مجموعی مہنگائی پر پڑتا ہے۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ اخراجات میں اضافے کے باعث ہر شعبہ زندگی متاثر ہو رہا ہے، اور اس کا سب سے زیادہ بوجھ متوسط اور غریب طبقے پر پڑ رہا ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت مالیاتی خسارہ کم کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے، جس کے باعث عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اقدامات مالیاتی استحکام کے لیے ضروری قرار دیے جاتے ہیں، تاہم ان کے منفی اثرات براہِ راست عوام کی قوتِ خرید پر پڑتے ہیں۔

صارفین کا کہنا ہے کہ حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں کے موجودہ ڈھانچے پر نظرثانی کرنی چاہیے تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت متبادل ذرائع آمدنی تلاش کرے اور بنیادی ضروریاتِ زندگی سے متعلقہ اشیاء پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جائے، تاکہ مہنگائی کی شرح میں کمی لائی جا سکے اور عام شہری کچھ سکھ کا سانس لے سکیں۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مستحکم رہیں تو حکومت کے پاس گنجائش موجود ہے کہ وہ لیوی اور دیگر ٹیکسوں میں معمولی کمی کرکے عوام کو ریلیف فراہم کرے۔ تاہم موجودہ مالیاتی دباؤ اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے تقاضوں کے پیشِ نظر ایسا کوئی فیصلہ فی الحال متوقع نظر نہیں آتا۔ ماہرین کے مطابق طویل المدتی بنیادوں پر توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور متبادل توانائی ذرائع کو فروغ دینا ہی اس بوجھ کو کم کرنے کا پائیدار حل ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ہر پندرہ روز بعد عالمی منڈی کے رجحانات اور روپے کے مقابلے ڈالر کی قدر کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں معمولی اتار چڑھاؤ کے باوجود مقامی سطح پر بھاری ٹیکسوں کے باعث صارفین کو خاطر خواہ ریلیف نہیں مل پاتا، جو معاشی ماہرین کے نزدیک نظامِ ٹیکس میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button