دہشتگردوں کیخلاف کوئی سمجھوتہ نہیں: وزیراعلیٰ بلوچستان
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردوں کی موجودگی اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک بلوچستان کو دہشت گردی کے ناسور سے مکمل طور پر پاک نہیں کر دیا جاتا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کے مطابق آپریشن شعبان ٹو کے تحت ضلع کی ساران تحصیل میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک اہم کارروائی کی، جس کے دوران چھ دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ نو مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود کی بڑی مقدار بھی برآمد کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عناصر علاقے میں مزید کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نے انتہائی مہارت اور بروقت حکمتِ عملی کے ذریعے دہشت گردوں کے خلاف یہ اہم کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں انتہائی قابلِ قدر ہیں، اور صوبائی و ریاستی ادارے ملک و قوم کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پورے عزم اور جانفشانی سے انجام دے رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ حکومتِ بلوچستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور صوبے میں امن و امان کی بحالی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں مؤثر اور تیز رفتار انداز میں جاری رہیں گی، اور کسی بھی صورت میں دہشت گردوں کو علاقے میں پناہ لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق حالیہ کارروائی میں گرفتار کیے گئے افراد سے تفتیش جاری ہے، جس سے علاقے میں سرگرم دیگر دہشت گرد نیٹ ورکس کے بارے میں بھی اہم معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی تاکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جامع حکمتِ عملی کو مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جا سکے۔
مقامی آبادی نے سیکیورٹی فورسز کی اس کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ علاقے میں امن کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے، اور اس طرح کی فیصلہ کن کارروائیوں سے عوام میں تحفظ کا احساس مزید مضبوط ہوگا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی بحالی کے لیے سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ سماجی و اقتصادی ترقی پر بھی توجہ دینا ضروری ہے، تاکہ نوجوان نسل کو دہشت گردی کی راہ اختیار کرنے سے روکا جا سکے اور صوبے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔
خیال رہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے حالیہ مہینوں کے دوران سیکیورٹی فورسز کی جانب سے متعدد کامیاب آپریشنز کیے گئے ہیں، جن میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان کے سہولت کاروں کے نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا گیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا ہے کہ حکومت اور سیکیورٹی ادارے مل کر صوبے سے دہشت گردی کی مکمل بیخ کنی تک کارروائیاں جاری رکھیں گے، تاکہ عوام کو ایک محفوظ اور پرامن ماحول فراہم کیا جا سکے۔




