کاروبار

امریکی پابندیوں کے باوجود ایرانی تیل کی فروخت بلند ترین سطح پر

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی معاشی ناکہ بندی اور پابندیوں کے باوجود ایرانی خام تیل کی فروخت گزشتہ دو برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جو تہران کے لیے ایک اہم سفارتی اور معاشی کامیابی کے طور پر پیش کی جا رہی ہے۔ یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی جانب سے ایران پر تیل کی برآمدات محدود کرنے کے لیے سخت ترین پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

تہران سے جاری کردہ ایرانی محکمہ منصوبہ بندی و بجٹ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینے میں ایرانی خام تیل کی فروخت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جو گزشتہ دو سال کے دوران سب سے بلند سطح ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی پابندیاں ایران کی معیشت اور توانائی کے شعبے کو مکمل طور پر مفلوج کرنے میں ناکام رہی ہیں، اور ایران متبادل منڈیوں اور طریقہ ہائے کار کے ذریعے اپنی تیل کی برآمدات کو مؤثر طریقے سے جاری رکھے ہوئے ہے۔

دوسری جانب امریکی فوج کی جانب سے جاری کردہ ایک الگ بیان میں بتایا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تجارت کا مجموعی حجم گزشتہ چھ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اور اس آبی گزرگاہ کی سلامتی و تجارتی سرگرمیاں عالمی توانائی منڈی کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے تیل کی فروخت میں اضافے کا دعویٰ اور آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ، دونوں ہی خطے کی بدلتی ہوئی اقتصادی و سفارتی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق امریکی پابندیوں کے باوجود ایران کا تیل کی عالمی منڈی میں اپنی موجودگی برقرار رکھنا، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پابندیوں کے نفاذ میں کچھ خلا موجود ہیں جن سے تہران فائدہ اٹھا رہا ہے۔ دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں میں اضافے کا اعتراف اس بات کا اشارہ بھی سمجھا جا رہا ہے کہ خطے میں کشیدگی کے باوجود عالمی تجارت کا بہاؤ متاثر نہیں ہوا۔

عالمی توانائی منڈی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے تیل کی فروخت میں اضافے کے دعوے کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق اب بھی ایک چیلنج ہے، کیونکہ پابندیوں کے باعث ایران کی برآمدات کے حوالے سے شفاف اعداد و شمار حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ امریکہ کی پابندیوں کی پالیسی کی افادیت پر سوالات اٹھا سکتے ہیں، جس کا مقصد ایران کی معیشت اور خاص طور پر اس کے توانائی کے شعبے کو کمزور کرنا تھا۔

مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے، کیونکہ خطے میں کسی بھی نوعیت کی کشیدگی اس اہم آبی گزرگاہ کے ذریعے عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کر سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی کی قیمتوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں تجارتی حجم میں اضافے کی رپورٹس کو خطے میں نسبتاً استحکام کی علامت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، اگرچہ سفارتی اور سیاسی سطح پر کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

جواب دیں

Back to top button