افغانستان عسکریت پسندانہ ذہنیت سے باہر نکلے: عطاءاللہ تارڑ
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ نے اسلام آباد میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں اور کالعدم تنظیموں کے ارکان کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم ہونا انتہائی تشویشناک امر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے افغانستان کو عسکریت پسندانہ ذہنیت سے باہر نکلنا ہوگا، کیونکہ اس کے بغیر خطے میں دیرپا استحکام کا حصول ممکن نہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ برادرانہ اور خیرسگالی پر مبنی تعلقات کو ترجیح دی ہے، تاہم افغان سرزمین سے پاکستان مخالف دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں ان تعلقات کے لیے سنگین چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے متعدد بار افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے، تاہم تاحال مؤثر اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے۔
عطاءاللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات اور پرامن ذرائع پر یقین رکھتا ہے، اور افغانستان کے ساتھ کسی بھی تنازع میں اضافے کا خواہاں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے، تاہم اگر افغان سرزمین سے دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں تو پاکستان اپنے دفاع کا حق ہر صورت میں استعمال کرے گا۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ افغانستان کی موجودہ آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں اور خواتین پر مشتمل ہے، جو امن اور ترقی کے خواہاں ہیں، تاہم چند عسکریت پسند عناصر پورے ملک کو عدم استحکام کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو بھی اس معاملے پر توجہ دینی چاہیے اور افغان عبوری حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کی مدد کی ہے، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ افغانستان اپنی ذمہ داریوں کو تسلیم کرے اور خطے کے امن کے لیے مثبت کردار ادا کرے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اور اس ضمن میں تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
سیاسی و سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کا یہ مؤقف پاکستان کی خارجہ پالیسی میں افغانستان کے حوالے سے سخت گیر رویے کی عکاسی کرتا ہے، اور توقع ہے کہ آئندہ دنوں میں اس معاملے پر مزید بیانات اور سفارتی پیش رفت سامنے آئے گی۔
واضح رہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ گزشتہ کچھ عرصے سے پاک افغان تعلقات، سیکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے مؤقف پر باقاعدگی سے میڈیا بریفنگز دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور سیکیورٹی ادارے عوام کو تازہ ترین صورتحال سے آگاہ رکھنے کے لیے پرعزم ہیں، تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا افواہوں کا سدباب کیا جا سکے۔




